ایک شام ڈاکٹر صغریٰ صدف اور قمر ریاض کے نام


????????????????????????????????????

ایک شام ڈاکٹر صغریٰ صدف اور قمر ریاض کے نام
ازقلم: حسیب اعجاز عاشرؔ
عجمان: متحدہ عرب امارات
عیدالفطر تو گزر گئی مگررونقیں مدھم ہونے کو نہیں،اسکا رنگ فضا میں دھنک کی مانندبکھرا پڑا ہے اور اسکی دلکش خوشبو ابھی بھی اپنے سحر میں جکڑے ہوئی ہے ۔پردیس میں پاکستانی کمیونٹی کے ہر حلقے میں عید ملن تقاریب کے انعقاد کا سلسلہ جاری ہے اور ایسے میں مسفرہ انٹرنیشنل کے زیراہتمام عجمان کے مقامی ریسٹورنٹ میں ایک مشاعرے ’’ایک شام ڈاکٹر صغری صدف اور قمر ریاض کے نام‘‘کے انعقادنے بھی اہل ادب حضرات کی عید کی خوشیوں میں اضافہ کر دیا۔تقریب کے منتظم اعلی بلند خیال، جدت پسند نوجوان شاعر سلیمان جاذب تھے۔
تقریب کا باقاعدہ آغاز رب ذوالجلال کے بابرکت نام سے کیا گیا جسکی سعادت حافظ عظمت انصاری کا مقدر ہوئی۔نفیس مزاج کے نعت گو نعت خواں ڈاکٹر اکرم شہزاد نے مسحورکن انداز میں نعت رسول مقبولﷺ’’تیری نسبت سے نام نامی ہے‘‘ پیش کی، جسے حاضرین نے والہانہ عقیدت اور خوب محبت کے ساتھ سماعت فرمایا۔نظامت کے فرائض ہر دلعزیزصحافی حافظ زاہد علی نے اپنے منفرد اور خوبصورت انداز میں سرانجام دیئے،اُنکے الفاظوں کے چناؤ اور مہمان شعراء کے اندازِتعارف پر سبھی اِنکے مداح ہوئے اگر یہ کہا جائے کہ انکی دلفریب نظامت نے ہی سامعین کی توجہ کو لمحہ بھر کے لئے محفل سے غیرحاضرنہ ہونے دیا ،تو بے جا نہ ہوگا۔مسند صدارت پر ڈاکٹر صغری صدف کو مدوح کیا گیا ،تقریب کے منتظم سلیمان جاذب اور قمر ریاض کے ہمراہ نبیل نجم بھی سٹیج پر رونق افروز ہوئے۔کاشف نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے مہمانان خصوصی اورتمام شرکاء کو تہہ دل سے خوش آمدید کہا اور تقریب کے انعقاد پر سلیمان جاذب کی کاوشوں کو سراہا۔اپنا اپنا منفرد کلام پیش کرنے والوں میں بالترتیب احمد جہانگیر، زاہد علی درویش،حفیظ عامر، اختر ملک، امجد اقبال امجد، سلیمان جاذب، نبیل نجم، قمر ریاض اور ڈاکٹر صغری صدف شامل تھے۔تقریب میں عبدالوحید پال، چوہدری ناصر، منظر شاہ، کاشف محمود، محمد شہزاد، مصطفی نہرہ، محمد آصف محمود، ارشد رانا، طاہر محمود، محترمہ عائشہ، ذوالفقارسمیت باذوق حضرات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
خوش لحن شاعر احمد جہانگیرنے چند اشعار اور ایک غزل پیش کی جو بہت پسند کی گئی۔دھیمے لہجے کے شاعر زاہد علی درویشن نے بھی اپنے کلام سے سامعین کو خوب محضوظ کیا۔خوش گفتار شاعر حفیظ عامرنے کلام سے تقریب میں خوب رنگ جمایاانکے کلام پر سامعین نے دل کھول کر دادادی۔اخترملک نے بھی اپنے باکمال اسلوب اور تازہ اشعارسے تقریب کی چمک دمک میں مزید اضافہ کیانئے سال کے حوالے سے اُنکی مقبول ترین نظم ’’اب کے سال کچھ ایسا کرنا‘‘نے دلوں کو چھو لیا ۔خوش فکر شاعر امجد اقبال امجدحافظ زاہد علی کی نظامت کی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکے اور فی البدیع اشعار انکے نذر کر دیئے،سانحہ پشاور کے حوالے انہوں نے اپنا پنجابی کلام پیش کر کے خوب داد وتحسین سمیٹی۔سلیمان جازب جو منفرد خیالات کو اپنی شاعری میں بیان کرنے کا ہنر خوب جانتے ہیں جدیدیت ،روانی، سادگی، ان کی خوبصورت شاعری کے دلفریب عناصر ہیں،نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے کلام سے محفل کو عروج بخشا ،پردیس کے حوالے سے تازہ نظم پیش کر کے خوب داد بٹوری،اپنے اظہار خیال میں جاذب نے کہا کہ سوہانی شام میں شریک مہمان شعر اء اور حاضرین کو خوش آمدید کہتا ہوں ،انہوں نے قمرریاض اور ڈاکٹر صغری صدف سے اپنے ادبی روابط کے حوالے سے دلچسپ باتوں کو بھی سماعتوں کی نذر کیا،تقریب کوعملی شکل دینے میں انہوں نے بابر ولید اور حافظ زاہد علی کا بھی شکریہ ادا کیا۔
خصوصی طور پر پاکستان سے تشریف لائے نبیل نجم جو ایف ایم پر پنجابی ادب کے فروغ کے لئے خدمات پیش کر رہے ہیں نے اظہار خیال کرتے ہوئے سلیمان جاذب کو کامیاب تقریب کے انعقاد پر بھرپور خراج تحسین پیش کیا،انہوں کے کہا کہ میں پاکستان سے باہر پہلی کسی تقریب میں شریک ہوا ہوں یہاں دیارِ غیر میں پاکستانیوں سے مل کر انکے اپنے وطن بارے محبت دیکھ کر خوشگوار احساس ملا ہے ،سامعین انکے پنجابی میں پیش کئے گئے رنگ کمال و کلام سے بہت متاثر ہوئے اورتالیوں کی گونج سے پسندیدگی کی سند پیش کی۔
توانا لہجے کے نوجوان شاعر قمرریاض معاشرے کے تلخ،تیکھے،تنداور تیز رویوں کو، شوخی، شرارت، طنزاور سنجیدہ انداز میں پیش کرنے پر کمال مہارت رکھتے ہیں۔انکا مجموعہ کلام ’’جیون،میں اور تتلی‘‘ حلقہ شعروادب میں بہت مقبول ہے۔پاکستان سوشل کلب عمان کی ادبی ونگ کے لئے جنرل سیکریٹری کی خدمات بھی باحسن خوبی سر انجام دے رہے ہیں ۔ان کہنا تھا کہ وہ بے شمار مشاعروں میں شرکت کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں مگر یہ تقریب اپنی نوعیت کی بالکل منفرد اور یادگار تقریب ہے جسے نہایت محبت سے سجایا گیا ہے۔انہوں نے سلیمان جاذب کی ادبی خدمات کو بہت سراہا ۔حافظ زاہد علی کی نظامت کے متعلق اُنکا کہنا تھا کہ اللہ کی ان پر خاص عنائت ہے کہ لفظ عطا ہوتے ہیں اور دل میں اُتر کر زبان سے ادا ہوتے ہیں۔قمر ریاض نے اپنے من موہنے کلام سے مشاعرے کے آہنگ کو مزید بلندکیا، جسے سامعین نے خوش الحانی کے ساتھ سنا اور داد پیش کی۔
خوش مزاج، خوش شکل ،خوش کلام، خوش لباس شخصیت کی حامل صغری صدف صاحبہ کسی تعارف کی محتاج نہیں،بڑی پہلو دار شخصیت ہیں ادبی،علمی اورثقافتی حلقوں میں انکا ایک اپنا مقام ہے ،تحقیق، شاعری،تعلیم، کمپیئرنگ ،کالم نویسی ،ترویجِ ادب کے ہر میدان میں اپنی قابلیت کے بل بوتے مقبولیت کی ہر بلندی کو چھو رہی ہیں۔پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے فلسفہ اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔انکے مجموعہ کلام اور تصوف کے حوالے سے کئی تصانیف مقبول عام ہیں۔پنجابی ادب کے حوالے سے انکی خدمات کو ہر سطح پر سراہا جاتا ہے۔پنجاب انسٹیٹوٹ آف لینگویج، آرٹ اینڈ کلچربھی انکے زیر سرپرستی ادب کی خدمات پیش کرنے میں مصروف عمل ہے۔انکی موجودگی کو کامیاب تقریب کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔سلیمان جاذب سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’شکریہ‘‘ کا لفظ چھوٹا اور بے معنی لگ رہا ہے ۔اتنی شاندار تقریب انکا انعقاد بہت کم کم دیکھنے کو ملتا ہے ۔باذوق سامعین کی موجودگی کسی تحفے سے کم نہیں بڑی ،جو دلجمعی سے کلام کو جذب کر رہے ہیں اور داد لُٹا رہے ہیں۔یہ محفل ہمیشہ یاد رکھی جائیگی۔حافظ زاہد علی کی نظامت کیلئے بھی تعریفی کلمات پیش کئے۔ماضی کے اوراق پلٹے اور حصول تعلیم میں درپیش مشکلات،اپنے پختہ عزم اور والد محترم کے تعاون کے حوالے سے سبق آموز واقعات بھی بیان کئے انہوں نے کہا میرے والد کہ اس جملے نے مجھے بہت حوصلہ دیا کہ ’’دنیا سے ڈرنا نہیں‘‘۔۔ عشقِ حقیقی ،عشقِ مجازی اور صوفی ازم کے حوالے سے اُنکا نقطہ نظر سامعین نے بڑی دلچسپی سے سنُا۔انہوں نے کہا کے پی کے،سندھ اور بلوچستان میں مادری زبان کو بڑی اہمیت حاصل ہے جبکہ پنجاب میں مادری زبان کو نظرانداز کیا جاتا رہا مگر اب ہم بھرپور کوشش کر رہے پنجابی زبان کو اصل وقار حاصل ہو سکے ۔ ڈاکٹر صاحبہ نے اُردو اور پنجابی کلام سماعتوں کی نذر کر کے تقریب کے وقار کو بلند ترین کر دیا۔ڈاکٹر صغری صدف، قمر ریاض اور نبیل نجم کو تعریفی اسناد پیش کی گئیں جس کے لئے غلام مصطفی، عبدالوحید پال، چوہدری محمد ناصر، منظر شاہ، کاشف اور محمد شہزاد کو سٹیج پر مدوح کیا گیا۔اختتامیہ کلمات پیش کرتے ہوئے منتظمِ محفل سلیمان جاذب نے تمام شرکاء کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ جن کی شرکت اور بھرپوردلچسپی نے محفل کو چار چاند لگا دیئے۔گروپ تصاویر اورپُرتکلف ضیافت کے اہتمام کے ساتھ یہ یادگار ادبی تقریب اختتام پذیر ہوئی۔تقریب میں پیش کئے گئے شعراء کرام کے کلام سے انتخاب قارئین کی نذر۔۔۔۔
زاہد علی درویش
اُسے ملنا ہے روابط جو زرا بہترہوں
سو روابط کو وہ بہتر نہیں ہونے دیتا
*****
احمد جہانگیر
تیرے پیروں تلے جو آرہے ہیں
پھُول پھُولے نہیں سما رہے ہیں
*****
حفیظ عامر
ماں کہتی تھی تو مقروض ہے مٹی کا
قرض اُتارا مٹی مٹی ہو گیا میں
*****
اختر ملک
وہ راہِ عام پہ اختر کھڑا ہوا تو ہے
مگر وہ شخص مجھے عام سا نہیں لگتا
*****
امجد اقبال امجد
پٹ جھڑ کے موسم دے وچ
سارے پتے چڑھ گئے نیں
*****
سلیمان جاذب(نظم)
سنو!۔۔پردیس میں جب عید ہوتی ہے
سبھی خوشیاں سسکتی ،مسکراتی ،بین کرتیں ہیں
*****
نبیل نجم ۔
اوہدے ہتھ تے
مہندی سوہنی لگی اے
میرے ہتھ تے اوہدا ہتھ
*****
قمرریاض
چال چاہے چلو محبت کی
چال میں ہم تو آنے والے نہیں
*****
صغری صدف
جو روز شہر مدینہ سے ہو کر آتی ہے
میں اس ہوا کو ادب سے سلام کرتی ہوں
مجھے ہے ناز شامل ہوں ان کی اُمت میں
میں آپ اپنا بہت احترام کرتی ہوں
**************

Advertisements